جب کایا پلٹ گئی
مولوی عبدالحق کاندھلوی ابن مولوی محمد ابوالقاسم بن مفتی الٰہی بخش صاحب کاندھلوی ؒ کے صاحبزادے نمبردار نصیرالحق جو بڑے آزادطبیعت رکھتے تھے ۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ سردی کے موسم میں گھر کے دروازے میں بیٹھے ہوئے شطرنج کھیل رہے تھے کہ رات کا اخیر حصہ ہوگیا اس وقت حضرت مولانا مظفر حسین صاحب کاندھلوی گلی سے تہجد کے لئے تشریف لے جارہے تھے انہوں نے یہ سمجھ کر کہ پڑوس کا جلا ہا ہے حکم دیا کہ حقہ بھر لائو حضرت مولانا نے اپنے چہرہ کو چادر میں لپیٹا کہ کوئی پہچان نہ سکے اور فوراً حقہ بھرکر سامنے رکھ دیا اور چلے گئے جانے کے بعد کسی نے کہا یہ تو مولانا مظفر حسین صاحب معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ نمبردار نصیرالحق یہ سنکر گھبراگئے اور کہا۔۔۔۔۔ اب میں کاندھلہ رہنے کے قابل نہیں رہا اور گھر چھوڑکر روانہ ہوگئے ۔۔۔۔۔ پہلے ایک خاندانی پیر اور مصنوعی درویش سے سابقہ پڑا جب وہاں کچھ نہ پایا تو حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کے آستانہ مبارک پر جاپڑے ۔۔۔۔۔ اور وہ مجاہدہ و ریاضت کیا کہ ساری عمر کی تلافی کردی ۔۔۔۔۔ بالآخر حضرت اقدس گنگوہی ؒ کے خلیفہ اور مجاز طریقت ہوئے۔۔۔۔۔(حالات مشائخ کا ندھلہ )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

