تمام پریشانیوں کیلئے …نسخہ سکون
ہم سب عبد محض ہیں اور تمام تر اسی کی ملک۔ خود ہم بھی اور ہماری ہر چیز بھی‘ اپنی کوئی شے بھی نہیں‘ نہ بیوی نہ بچے‘ نہ مال نہ جائیداد‘ نہ وطن نہ خاندان‘ نہ جسم نہ جان۔ انسان کے سارے رنج وغم دردو حسرت کی بنیاد صرف اس قدر ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب چیزوں کو اپنی سمجھتا ہے لیکن جب ذہن اس عام مغالطہ سے خالی ہوگیا اور کوئی بھی شے ہو ‘سرے سے اپنی رہی ہی نہیں تو اب گلہ وشکوہ‘ رنج وملال کا موقع ہی کیا؟
دوسری بات یہ ہے کہ بڑے سے بڑے رنج اور صدمے اور دل کے داغ بھی عارضی اور فانی ہیں۔ رہ جانے والے کوئی بھی نہیں۔ عنقریب انہیں چھوڑ چھاڑ کر مالک کی خدمت میں حاضری دینا ہے۔
تیسرے یہ کہ وہاں پہنچتے ہی سارے قرضے بے باق ہوجائیں گے۔ ہر کھوئی ہوئی چیز وصول ہوکر رہیگی۔ یہ تینوں عقیدے جسکے جتنے زیادہ مضبوط ہونگے‘ اسی قدر اسکے دل کو دنیا میں امن وسکون حاصل رہیگا۔ غم وفکر کے بار کو ہلکا کرنیکا جو عارفانہ اور تیر بہدف نسخہ بتایا گیا ہے۔ یہ صحائف کائنات میں بے نظیر ہے۔ بلکہ حق یہ ہے کہ قرآن مجید میں اگر صرف یہی ایک آیت ہوتی تو واللہ یہی اسے حکیم مطلق کا کلام ثابت کرنے کیلئے کافی تھی۔
صبر ایک کیفیت نفسی کا نام ہے اور اصل میں اس کا تعلق قلب سے ہے۔ زبان سے کلمہ صبر دہرانے کا حکم اسی کیفیت کو قوی بنانے کیلئے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بابت تاریخ کا بیان ہے کہ آپ ادنیٰ ادنیٰ تکالیف یا نا گواری کے موقع پر بھی یہ کلمہ زبان پر لاتے رہتے تھے اور یہی معمول آپکے صحابہ رضی اللہ عنہم کا رہا ہے۔ (از مولانا عبدالماجد دریا آبادی ؒ)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

