تلاوت میں عربی لہجہ کی ضرورت
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ مجھے بعض پڑھے لکھوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ قرآت میں لہجہ کے مخالف ہیں اور اس کو فضول اور لایعنی بتلاتے ہیں حالانکہ اس میں کوئی کچھ شبہ نہیں کہ ہر زبان کا ایک خاص لب ولہجہ ہوتا ہے۔ فارسی کا لہجہ الگ ہے،انگریزی کا جدا، بنگلہ کا جدا، اردو کا علیحدہ (غرض) ہر زبان میں لہجہ کی قدر ہے۔ پھر حیرت ہے کہ عربی میں لہجہ کی قدر نہ ہو اور یہاں اس کو فضول قرار دے دیا جائے۔ یہ سب باتیں قلتِ محبت سے ناشی ( پیدا ہوتی) ہیں۔ اگر محبت ہوتی تو قرآن کے اندر بھی عربی لب و لہجہ کی عظمت ہوتی اور اس کی کوشش کی جاتی کہ قرآن کو اس طرح پڑھیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے۔
خلاصہ یہ ہے کہ صحیح الفاظ کے بعد اگر عربی لہجہ بھی حاصل ہو جائے تو *نور علی نور* ہے۔ چنانچہ آج کل انگریزی میں بڑا قابل وہ شمار ہوتا ہے جس کا لہجہ بھی انگریزوں سے ملتا جلتا ہو اور انگریزی لب و لہجہ حاصل کرنے کی بڑی کوشش کی جاتی ہے اور صرف حسنِ کلام اور زیادہ حمد و ثناء کے لئے اس میں کوشش کی جاتی ہے۔ پھر دین میں اس کو فضول اور بیکار کیوں کہا جاتا ہے؟
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

