تشدد و غلو فی الدین یا احتیاط
ارشاد فرمایا کہ جن امور میں ضرورتِ شدیدہ ہو ، جہاں مستحبات پر عمل مشقت کا سبب بنے وہاں آسانی اور سہولت ہی کو اختیار کرنا چاہئے۔ غلو فی الدین نہ مطلوب ہے نہ محمود بلکہ مغضوب ہے۔ پھر اسے ترک کیونکر نہ کیا جائے؟ بات اتنی ہے کہ آج کل مصلحتوں و حکمتوں کے نام پر اباحیت کی ترویج زوروں پر ہے ۔ معمولی مشقت کی بناء پر مکروہاتِ تحریمیہ کو جائز کرلینا لوگوں نے اپنا حق سمجھ لیا ہے اور اس کے باوجود اپنے بارے میں عجب اور خوش فہمیوں کا شکار ہیں۔ بعض تو اسے اپنی فضیلت و کرامت میں شمار کرا کے حلقۂ اثر بڑھانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں ۔یہ بھی اگر اخلاص کے ساتھ ہوتا کہ دوسروں کی ہدایت و تربیت مقصود ہے تو بسا غنیمت تھا ۔ یہاں تو نری دوکانداری ہے ۔ ایسا عمل تحریف فی الدین ہی تو ہے۔
(مؤرخہ ۳۰جنوری۲۰۱۹ء درسِ صحیح بخاری،بمقام دارالحدیث،، اسلامک دعوۃ اکیڈمی، لیسٹر، برطانیہ)
ازافادات محبوب العلماء حضرت مولانا سلیم دھورات مدظلہ العالی (خلیفہ مجاز مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ تعالیٰ)۔
نوٹ: اس طرح کے دیگر قیمتی ملفوظات جو اکابر اولیاء اللہ کے فرمودہ قیمتی جواہرات ہیں ۔ آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online/
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔ براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ ودیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔
اور ایسے قیمتی ملفوظات ہمارے واٹس ایپ چینل پر بھی مستقل شئیر کئے جاتے ہیں ۔ چینل کو فالو کرنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
شکریہ ۔

