بیعت میں جلدی نہ کرنا
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ جب تک جانبین کو دل نہ مل جائے یہ تعلق مفید نہیںبلکہ مضر ہے کیونکہ شیخ کو یا مرید کو جلدی کرنے میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ پچھتانا پڑتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ کہاں پھنس گئے۔بیعت کا تعلق کرنا جانبین کو تمام عمر کے لیے قید میں آجانا ہے ۔ ہرگز بلا اطمینان ِطرفین کے اس قید میں نہ پڑنا چاہیے اور یوں میں تمام مسلمانوں کا دعا گو اور خادم ہوں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تعلیم اور نفع بیعت پر موقوف ہے یا اس میں دریغ ہوگابلا بیعت کے۔ میں ایسے شخص کو راہزن اور ڈاکو سمجھتا ہوں جو بلا بیعت کے تعلیم میں طالب سے دریغ کرے اور سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کسی طالب سے دریغ نہیں کرتا ۔ رہا بیعت کرنا سو وہ ایسا ہے جیسے کسی کو متبنی (لے پالک بیٹا) بنا لینا ۔ خدمت تو آدمی پڑوسیوں تک کی اور پڑوسیوں کے بچوں اور نوکروں تک کی اور محض اجنبیوں کی بھی کرتا ہے لیکن بیٹا کسی کو نہیں بناتا۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۳۵)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

