بغیر تکلیف اور مصیبت کے صبر کی فضیلت کیسے حاصل ہو؟
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ایک صاحب نے دریافت کیا کہ بغیر تکلیف اور مصیبت کے صبر کی فضیلت کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ تو کیا وہ قصداً مصیبت اور تکلیف کو اختیار کرے یعنی قصداً ایسا کام کرے کہ جس سے مصیبت اور تکالیف پیش آوے۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ اعمال مطلوبہ دو قسم کے ہیں ، ایک وہ جو کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں مثلاً نماز ، روزہ اور بعض اعمال مشروط ہیں شرائط کے ساتھ مثلاً زکوۃ کہ یہ مشروط ہے مال ہونے پر تو صبر اسی قسم کے اعمال سے ہے جو مشروط ہے بلا و مصیبت کے ساتھ اور اس وقت جب کہ مصیبت اور بلا نہ ہو ، اجر حاصل کرنے کے لیے صرف یہ کافی ہے کہ یہ ارادہ رکھے کہ بلا و مصیبت کے وقت صبر کریں گے۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

