برداشت اور فکر آخرت کا ایک واقعہ
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے صبر و تحمل، بردباری اور فکر آخرت کا یہ عالم تھا کہ ایک موقع پر کسی خارجی نے امام صاحب کو برا بھلا کہا، غلیظ گالیاں دیں اور مبتدع اور زندیق تک کہا۔۔۔۔۔ امام صاحب نے جواب میں ارشاد فرمایا:
غفر اﷲ لک ھو یعلم منی خلاف ماتقول۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے تو جو کچھ کہہ رہا ہے خدا جانتا ہے کہ وہ مجھ میں نہیں ہے۔۔۔۔۔ اس کے بعد امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر گریہ طاری ہوا اور فرمانے لگے، میں بھی اللہ سے عفو کی امیدرکھتا ہوں، مجھے خدا کا عذاب رلاتا ہے۔۔۔۔۔ عذاب کے تصور سے گریہ بڑھ گیا اور روتے روتے غش کھا کر گر گئے۔۔۔۔۔ جب افاقہ ہوا تو فرمانے لگے، اے باری تعالیٰ! جس نے بھی مجھ پر ایسی بات کہی جو مجھ میں نہیں تھی اس کو معاف فرما۔۔۔۔۔ ( ’’ عقود الجمان‘‘ )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

