بدعتی ہمیشہ دوسروں پر اعتراض کرتے ہیں
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ بدعتی لوگ ہمیشہ دوسروں ہی پر اعتراض کرنے میں مشغول رہتے ہیں مگر کوئی مفید بات یا کام کبھی نہیں کرتے ۔ ان کے یہاں چند چیزیں ہیں جن کو مایہ ناز سمجھتے ہیں مگر دین ان میں بھی نہیں ہوتا ، نہ فہم سے کام لیتے ہیں ۔ ایک مرتبہ کانپور میں مَیں نے وعظ میں گیارھویں کے متعلق بیان کیا ۔ اس میں ایک انسپکٹر پولیس بھی شریک تھے ۔ بعد وعظ کے انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہماری بڑی مشکل ہے ، فلاں فلاں عالم تو اس کو جائز کہتے ہیں اور تم اس کو بدعت کہتے ہو ، ہم کیا کریں؟ میں نے کہا کہ اس کا جواب بعد میں دوں گا ، پہلے یہ بتلائیے کہ آپ کو تردد رفع کرنا ہے یا اعتراض کرنا مقصود ہے؟ کہا کہ تردد رفع کرنا مقصود ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ تردد تو دونوں ہی جانب ہونا چاہیے ، سو جیسے مجھ سے اس وقت کہا گیا ہے ، کبھی ان مجوزین(جائز کہنے والوں ) سے بھی اس طرح کہا ہے کہ فلاں فلاں منع کرتے ہیں اور آپ اجازت دیتے ہیں ، ہم کیا کریں؟ بس داروغہ جی ختم ہو گئے۔(بدعت کی حقیقت اور اس کے احکام و مسائل، صفحہ ۲۲)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات بدعت کی حقیقت سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

