بحیثیت قوم ….اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنا سیکھیں (151)۔

بحیثیت قوم ….اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنا سیکھیں (151)۔

خبروں کے مطابق:18 اگست 2024 کو کراچی کے مصروف علاقے کارساز روڈ پر ایک المناک حادثہ پیش آیا جس میں مشہور کاروباری شخصیت دانش اقبال صاحب کی بیوی نتاشہ دانش، کی تیز رفتار لینڈ کروزر نے دو قیمتی جانوں کو نگل لیا۔جبکہ کچھ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔ عینی شاہدین کے مطابق، حادثے کی وجہ نتاشہ دانش کی گاڑی کی تیز رفتاری تھی جس نے گاڑی کو بے قابو کر دیا اور یہ افسوسناک حادثہ رونما ہوا۔
یہ حادثہ ہر لحاظ سے دلخراش ، دردناک اور افسوسناک واقعہ تھا۔اور اس پر عوام کا غم و غصہ بھی بجا ہے۔ تاہم اس غم و غصے کا اظہار جس انداز میں کیا گیا، اس نے صورتحال کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا۔
پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر اداروںکو خاص طور پر پولیس اور عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس تنقید میں گالم گلوچ اور الزام تراشی کا ایک سیلابی ریلا قابو سے باہر ہوگیا جو کہ نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ مسائل کے حل میں بھی رکاوٹ بن سکتا ہے۔یہ عوامی غم و غصہ کا گالم گلوچ کے اندا ز میں ظاہر ہونااندرونی انتشار کو بڑھاوا دیتا ہے، جو کہ کسی بھی صورت میں فائدہ مند نہیں ہے۔
عدلیہ بک گئی ہے، دیت کو جان کی قیمت کہہ کر مذاق اڑایا گیا، پاکستانی قانون کو بکاؤ کہا گیا اور اس طرح کے سینکڑوں تبصرے جو ہوشربا ہیں وہ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملے۔
ایسے مواقع پر اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا اور ان پر بے جا تنقید کرنا نہ صرف معاملے کو حل کرنے میں مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اداروں کے خلاف بے جا غصہ نکالنے سے حالات میں کبھی بھی بہتری نہیں آئے گی، بلکہ مسائل اور بھی گھمبیر ہو سکتے ہیں۔
دوستو! میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ بہت ہی کربناک ہے لیکن ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح اپنےجذبات کو مہذب اور شائستہ انداز میں ظاہر کریں۔ تاکہ امن و امان برقرار رہے اور ادارے بھی اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھا سکیں۔
سوشل میڈیا پر زہر اگلنے کی بجائے اپنی باتوں کو مدلل اور مہذب انداز میں پیش کرنے کا طریقہ ہمیں سیکھنا ہوگا تاکہ کسی بھی اچانک حادثے میں بدامنی کی فضا نہ پھیلے اور آپسی انتشار کا موقع نہ بنے۔
ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں اور معاشرتی بہتری کے لیے تعمیری تجاویز دیں۔ یہ نہ صرف ہمارے معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ ملکی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
اس قسم کے واقعات میں، بحیثیت قوم ہمیں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اور تعمیری سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے تاکہ ہم ایک مستحکم اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکیں۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more