بادشاہ بھی عدالت میں جانے کیلئے مجبور
خلیفہ معتضد باللہ ۲۷۹ھ ۸۹۲ء تا ۲۸۹ھ۹۰۲ء) کا زمانہ عباسی خلافت کی تجدید کا زمانہ تھا۔۔۔۔۔ اس نے ڈیڑھ سو سال پرانے عباسی خلافت میں آئے ہوئے زوال کی روک تھام کی ۔۔۔۔۔ وہ اپنے جاہ و جلال کے لئے مشہور ہے مگر مردان حق گو اس کے جاہ و جلال کو بھی چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔
خلیفہ نے جب ابو حازم کو قضا کے منصب پر تعینات کرنا چاہا تو انہوں نے اس کو آسانی سے قبول نہیں کیا۔۔۔۔۔ لیکن جب خلیفہ معتضد نے بہت اصرار کیا تو ابو حازم نے اس کو قبول کر لیا۔۔۔۔۔ اس سے خلیفہ بہت خوش ہوا اور کہا ’’قضا (Justice) کی تمام ذمہ داری میری تھی میں نے یہ عہدہ اپنی گردن سے نکال کر تمہاری گردن میں ڈال دیا ہے‘‘۔۔۔۔۔ ابو حازم نے بغیر کسی رو رعایت کے قاضی کے فرائض انجام دئیے۔۔۔۔۔
ایک مرتبہ ایک مقدمہ ابو حازم کی عدالت میں پیش ہوا۔۔۔۔۔ ایک امیر نے بہت سے لوگوں سے قرض لے رکھا تھا۔۔۔۔۔ اس پر خلیفہ کا بھی کچھ قرض تھا۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے اس امیر پر قرض کی ادائیگی کا دعویٰ کیا۔۔۔۔۔ خلیفہ کو معلوم ہوا تو اس نے اپنا ایک آدمی قاضی ابو حازم کے پاس بھیج کر کہلوایا ’’میرا بھی کچھ قرض اس پر واجب ہے وہ بھی وصول کر لیا جائے‘‘۔۔۔۔۔ قاضی ابوحازم نے کہلوایا ’’امیر المومنین ! کیا اپنا وہ قول یاد ہے جوآپ نے مجھے قاضی بناتے وقت فرمایا تھا۔۔۔۔۔ یعنی میں نے قضا کے عہدے کا قلادہ اپنی گردن سے نکال کر تمہاری گردن میں ڈال دیا ہے۔۔۔۔۔ چنانچہ آپ باقاعدہ دعویٰ پیش کریں اور بغیر ثبوت کے میں اس کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دوں گا‘‘۔۔۔۔۔
معتضد باللہ نے پھر کہلوایا ’’دومعتبر آدمی میرے گواہ ہیں‘‘۔۔۔۔۔
قاضی ابو حازم نے پھر جواب میں کہلوایا ’’گواہوں کو عدالت میں پیش کیا جائے میں ان سے جرح کروں گا اگر گواہی معتبر ہو گی قبول کی جائے گی‘‘۔۔۔۔۔ (تاریخ الخلفاء)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

