ایک قصہ
عالم گیر رحمۃاللہ علیہ کے زمانہ میں ایک نواب کا انتقال ہوگیا اس کا چھوٹا بیٹا تھا ایک وزیر چاہتا تھا کہ بچے کو بادشاہ کی جگہ بٹھائے اور دوسرے لوگ چاہتے تھے کہ کوئی اور بیٹھ جائے ، ان میں اختلاف ہوا پھر یہ طے پایا کہ عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جاکر مشورہ کریں گے راستہ میں وزیر بچے کو مختلف سوالات کے جوابات سمجھاتا رہا، جب قریب پہنچ گئے تو بچے نے کہا کہ آپ نے جتنے سوالات کے جوابات سکھائے ہیں اگر بادشاہ ان کے علاوہ کوئی اور سوال کرلے تو کیا جواب دوں اس نے کہا جس نے یہ سوال تمہارے ذہن میں ڈالا ہے وہی عین وقت پر تمہارے ذہن میں اس کا جواب بھی ڈال دے گا خیر! وہاں پہنچے تو عالم گیر حوض میں پیر ڈالے ہوئے بیٹھے تھے، وزیر نے صورتحال بیان کی تو بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے لائو بچے کی آزمائش کرلیں، بچے کو بلایا اور اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر حوض کے اوپر لٹکا دیا اور پوچھا کہ تجھے ڈبودوں؟ تو بچے نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ صرف ہنسا تو بادشاہ نے بچے کو ہٹا لیا، پھر بچہ سے پوچھا تم نے کوئی جواب نہیں دیا اور ہنسے، تو بچے نے جو جواب دیا، وہ چاندی کی تختی پر آب زر سے نہیں بلکہ لوح قلب پر نقش کرنے کے قابل ہے، بچے نے کہا حضور جہاں پناہ! آپ اتنے بڑے بادشاہ ہیں کہ اگر کسی کا ایک ہاتھ پکڑ لیں تو وہ ڈوب نہیں سکتا جبکہ آپ نے تو میرے دونوں ہاتھ پکڑ رکھے تھے میں کیسے ڈوب سکتا تھا، کاش! ہم بھی اللہ تعالیٰ کی دست گیری پر ایسا ہی اعتماد پیدا کرلیں اور ایمان لے آئیں، جیسا کہ بچہ کو بادشاہ کی دست گیری پر حاصل تھا، اگر حق تعالیٰ کی رحمت کسی کی دست گیری کرے تو وہ کیسے ڈوب سکتا ہے؟
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

