ایک ایمان افروز حیرت انگیز واقعہ

ایک ایمان افروز حیرت انگیز واقعہ

۔2001ء میں محمود غوری اور ان کے بیٹے عامر محمود غوری کا انتقال ہوگیا تھا۔ والد کی عمر 55 سے 60 سال کے درمیان تھی جبکہ بیٹے کی عمر 29,28 سال تھی اور خشخشی ڈاڑھی رکھتا تھا۔ دونوں باپ بیٹے دینی رجحان رکھتے تھے کیونکہ والد کا مزاج تصوف کی طرف زیادہ تھا اس کا اثر بیٹے کے مزاج و فکر پر بھی پڑا تھا۔ اس واقعہ کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ بیٹا اپنے سسرالی عزیزوں کے ساتھ پکنک منانے کیلئے کلری جھیل پر گیا تھا اور پانی میں ڈوب کر مر گیا۔ لاش گھر آئی تو والد صدمہ کو برداشت نہ کرسکا اور اس کے دماغ کی رگ پھٹ گئی۔ اس طرح ایک ہی وقت میں ایک گھر سے دو جنازے اٹھائے گئے اور دونوں کو حسن سکوائر کے پیچھے عیسی نگری کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔
۔2012ء میں لیاری ایکسپریس کی تعمیرکے سلسلہ میں مذکورہ قبرستان کی کچھ زمین سڑک بنانے کیلئے لینی ضروری ہوئی جو علاقہ اس سکیم میں آرہا تھا اس میں تقریباً تین ہزار قبریں آرہی تھی۔ انتظامیہ نے ورثا سے رابطہ کرکے ہدایت کی کہ وہ فلاں تاریخ کو اپنے مردوں کی باقیات یعنی ہڈیاں ڈھانچے وغیرہ جمع کرکے عیسی نگری میں پہلے سے متعین جگہ پر منتقل کردیں۔ چنانچہ محمود غوری صاحب کے ورثا کو بھی اطلاع کی گئی ان کے دو بیٹے نعمان و عقیل بھی مقررہ تاریخ پر وہاں پہنچ گئے۔ جب گورکن نے انکے والد کی قبر کھودی تو کفن جوں کا توں موجود تھا اس میں نعش بھی صحیح سلامت تھی کفن میلا ضرور تھا۔ گورکن نے منہ کی طرف سے کفن ہٹایا تو چہرہ بالکل ایسا تروتازہ تھا جیسے آج ہی انہیں دفنایا گیا ہو۔ ان کے بیٹے عقیل کا بیان ہے کہ ان کے والد کا چہرہ اور جسم بالکل محفوظ تھا۔ یہاں تک کہ کمر باندھنے کیلئے جو کتر باندھی جاتی ہے وہ بھی گرہ کھلی ہوئی موجود تھی۔
اسکے بعد بیٹے عامر محمود غوری کی قبر کھودی گئی حیرت انگیز طور پر اس کا جسم بھی پوری طرح صحیح و سالم اور محفوظ تھا۔ چنانچہ اس کو باپ کی قبر کے قریب دفنا دیا گیا۔
قرآن کریم کی بیان کردہ حقیقت کے مطابق شہیدوں کو ایک خاص قسم کی حیات دی جاتی ہے اور اس قسم کے واقعات اکثر علم میں آتے رہتے ہیں۔ اس واقعہ میں راقم کو زندگی میں پہلی بار ایسے کسی مشاہدے کا علم ہوا وہ یہ کہ جب والد کے جسم کو منتقل کیا جارہا تھا تو اچانک کفن ان کے ہاتھ سے ہٹ گیا اور ہاتھ نظر آیا تو دیکھا کہ ان کے ناخن تقریباً ڈیڑھ انچ بڑھے ہوئے تھے جبکہ انتقال کے وقت ناخن بہت چھوٹے تھے اسی طرح بیٹے کے چہرے پر جو خشخشی ڈاڑھی تھی وہ کئی انچ زیادہ بڑھ گئی تھی۔
قرآن کریم میں اللہ کے راستے میں قتل ہونے والوں کو زندہ فرمایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ میں دونوں باپ بیٹے ایک حادثاتی موت میں مرے ہیں۔ نہ وہ فی سبیل اللہ جہاد کیلئے نکلے تھے اور نہ قتل ہوئے۔ پھر ان کو شہادت کا یہ اعلیٰ مرتبہ کیسے حاصل ہوگیا؟
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ شہادت کے درجات کی تعداد بہت زیادہ ہے ایک غزوے سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف چلو۔ یعنی نفس امارہ سے جنگ کرو۔تزکیہ نفس اور مجاہدے میں مرنے والے بھی بڑے شہید ہیں اگر مجھے غلط یاد نہیں تو ناگہانی موت کو بھی شہادت کا ایک درجہ دیا گیا ہے۔۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر شخص کا معاملہ اللہ کے ساتھ جدا ہوتا ہے ہوسکتا ہے ان کا کوئی خفیہ عمل ایسا ہو جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے۔ گورکن نے بتایا کہ تین ہزار قبروں میں سے سات قبریں ایسی ملیں جن کے جسم محفوظ تھے۔ واللہ اعلم (البلاغ نومبر 2012ء)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more