اکابر بھی محتاج اصاغر ہیں دین میں بھی اور دنیا میں بھی

اکابر بھی محتاج اصاغر ہیں دین میں بھی اور دنیا میں بھی

بعض اکابر اپنے آپ کو اکابر سمجھتے ہیں حالانکہ ان کی اکبریت اصاغر کی وجہ سے ہوتی ہے ان کا وجود اور قیام جب تک ہی ہوتا ہے کہ اصاغر کا وجود اور قیام ہو دیکھو یہ ڈیرہ کی چوب کیسی سیدھی کھڑی ہوئی تھی۔ اور سب پر ناز کر سکتی تھی کہ میں ایسی اونچی ہوں۔ حالانکہ اصلیت صرف اتنی نکلی کہ انہیں اصاغر نے ان کی اکبریت کو قائم کر رکھا تھا۔ یہ دنیا میں تو ہے ہی میں ایک نازک بات عرض کرتا ہوں کہ اکبر دین بھی اصاغر ہی کی وجہ سے اکابر ہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی تشہیر سے اکابر بنے ہوئے ہیں یہ کام تو جھوٹے اور متصنع اکابر کا ہے۔ بلکہ جو لوگ واقعی اکابر دین ہیں ان پر بھی باطنی برکات اصاغر ہی کی وجہ سے نازل ہوتی ہیں۔
چنانچہ بعض لوگوں کو اجازت دے دی جاتی ہے۔ اور فوراً ان کی حالت بدل جاتی ہے۔ لوگوں پر حسن ظن سے اس کے اوپر برکات نازل ہوتی ہیں اور اصلاح ہو جاتی ہے۔ مولانا محمد یعقوب صاحب فرماتے تھے ہم بس اپنے مجمع میں بڑے ہیں اور باہر نکل کر کچھ بھی نہیں۔ جیسے روڑ کی کالج کے کاریگر کہ جب تک کالج کے اندر ہیں سب کام کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہاں مشین موجود ہے اورو ہاں سے نکلے تو کچھ بھی نہیں گویا ہاتھ پیروہیں رکھ آئے ہیں۔مطلب یہ ہے مولانا کا کہ ہم سے جو کچھ برکات اپنے مجمع کو پہنچتے ہیں وہ ہم کو حق تعالیٰ کی طرف سے طالبین ہی کی بدولت عطا ہوتے ہیں۔ یہی حالت ہے تمام امت محمدیہ کی۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر۲۰)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more