اپنے قیمتی ہیرے کی حفاظت خود کریں (186)۔

اپنے قیمتی ہیرے کی حفاظت خود کریں (186)۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں :۔
نئی تہذیب کا عجیب فلسفہ ہے کہ اگر ایک عورت اپنے گھر میں اپنے لئے، شوہر کے لئے اور بچوں کے لئے کھانا تیار کرے تو وہ دقیانوسیت ہے ۔ اور اگر وہی عورت ہوائی جہاز میں ائیر ہوسٹس بن کر سینکڑوں انسانی کی ہوس زدہ نگاہوں کا نشانہ بن کر خدمت کرے تو یہ آزادی ہے ۔ اگر عورت گھر میں رہ کر ماں، باپ، بہن اور بھائیوں کے لئے خانہ داری کا انتظام کرے تو قید اور ذلت ہے ۔
لیکن اگر دوکانوں پر سیلز گرل بن کر اپنی مسکراہٹوں سے گاہکوں کو متوجہ کرے یا دفاتر میں اپنے افسروں کی ناز برداری کرے تو آزادی ہے ۔
تو حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی یہ بات انتہائی دردمندانہ مشاھدے کا نتیجہ ہے ۔ جسکا مفہوم میں نے یہ سمجھا ہےکہ اے مسلمان لڑکیو ! اگرتم نے گھر سے باہر رہ کر بھی یہی کام کرنے ہیں جو اسلام نے تمہارے ذمہ لگائے ہیں مثلاً شوہر کی خدمت، بھائیوں اور والد کی خدمت اور خانہ داری کے امور تو کیا ہی خوب ہو کہ یہ سب گھر بیٹھ کرکرو۔ ثواب بھی ملے گا اور عزت بھی بڑھے گی ۔
ورنہ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت جب گھر سے باہر نکلے تو خواہ وہ کتنی ہی مقدس نیت اور مقدس جذبے کو لے کرنکل رہی ہو مگر ہوس زدہ نگاہوں کا نشانہ بننا ضروری ہے کیونکہ سارے معاشرے کی نگاہوں کو پاک نہیں کیا جا سکتا ۔
جیسے ایک قیمتی ہیرا ….بھرے بازار میں بغیر کسی حفاظت کے رکھا ہوا ہو۔ اس سستی اور غفلت کے نتیجے میںوہ قیمتی ہیرا چوری ہوجائے۔ چوری ہوجانے پر لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ہمیں قیمتی چیز کی قدر کرنی چاہئے تھی بلکہ وہ یہ شور و غل بپا کردیں کہ معاشرے میں چور کیوں ہیں؟
تو دیکھو دوستو! آپ معاشرے کو نہیں بدل سکتے اور نہ ہی اس بات کو اچھالنے کا کوئی فائدہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں برے لوگ کیوں ہیں؟
مگر آپ اپنے ہیرے کی حفاظت تو خود کرسکتے ہو ناں؟ اور یاد رکھیں کہ یہ ہیرا جب چوری ہوجاتا ہے تو پھر پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
تو اسلامی تعلیمات کی قدر کریں ۔اور کوئی بھی نقصان ہونے سے پہلے پہلے ان پر عمل کرلیںاور انکو اپنی زندگی کو حصہ بنالیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی بہن بیٹیوں کو شرعی پردہ کی توفیق عطا فرمادیں ۔ آمین ۔

نوٹ : یہ ’’آج کی بات‘‘ ایک بہت ہی مفید سلسلہ ہے جس میں حذیفہ محمد اسحاق کی طرف سے مشاھدات،خیالات اور تجربات پر مبنی ایک تحریر ہوتی ہے ۔ یہ تحریر ہماری ویب سائٹ
Visit https://readngrow.online/ for FREE Knowledge and Islamic spiritual development.
پر مستقل شائع ہوتی ہے ۔ ہر تحریر کے عنوان کے آگے ایک نمبر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس اسکی قسط کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ کون سی قسط ہے ۔ پچھلی قسطیں بھی ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔ اگر کوئی پیغام یا نصیحت یا تحریر آپکو پسند آتی ہے تو شئیر ضرور کریں ۔ شکریہ ۔
مزید اپڈیٹس کے لئے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں
https://whatsapp.com/channel/0029Vb0Aaif4o7qSPFms4g1M

Most Viewed Posts

Latest Posts

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326)۔

ظاہری حال سے شیطان دھوکا نہ دے پائے (326) دوکلرک ایک ہی دفتر میں کام کیا کرتے تھے ایک بہت زیادہ لالچی اور پیسوں کا پجاری تھا۔ غلط کام کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔ جہاں کہیں خیانت اور بددیانتی کا موقع ہوتا تو بڑی صفائی سے اُسکا صاف ستھرا...

read more

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔

استاذ اور شاگرد کے درمیان تعلق مضبوط کیسے ہوگا؟ (325)۔ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے تعلق کانام ہے۔جہاں پر کوئی استاذ بیٹھ گیا اور اس کے گرد چند طلبہ جمع ہوگئے تو وہ اک مدرسہ بن گیا۔مدرسہ کا اصلی جوہر کسی شاندار عمارت یا پرکشش بلڈنگ میں نہیں، بلکہ طالبعلم اور استاد کے...

read more

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔

خلیفہ مجاز بھی حدودوقیود کے پابند ہوتے ہیں (324)۔ خانقاہی نظام میں خلافت دینا ایک اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ صاحب نسبت بزرگ اپنے معتمد کو نسبت جاری کردیتے ہیں کہ میرے پاس جتنے بھی بزرگوں سے خلافت اور اجازت ہے وہ میں تمہیں دیتا ہوں ۔یہ ایک بہت ہی عام اور مشہور...

read more