اپنی اولاد کے مستقبل کی فکر کیسے کریں؟ (ملفوظات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)۔
ارشاد فرمایا کہ میرے ایک دوست نے ایک مرتبہ بڑا اچھا جملہ کہا جو مجھے بہت پسند بھی آیا اور اس نے دل میں عبرت بھی پیدا کی ۔ کہنے لگے کہ لوگ آج کل اس فکر میں ہوتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد میری اولاد کا کیا بنے گا ؟ لیکن یہ فکر نہیں ہوتی کہ خود اولاد کے مرنے کے بعد اولاد کا کیا بنے گا؟ ٹھیک ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں لیکن اس بات کی فکر زیادہ ہونی چاہئے کہ اولاد کے مرنے کے بعد ان کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی ہوگی تو اس وقت یہ کیا کریں گے ؟ اس بات کی فکر زیادہ ہونی چاہئے ۔ اس کے لئے ان کی صحیح تربیت کی جائے اور ان کو دین کے راستے پر لگایا جائے ، ان میں حلال و حرام کی فکر پیدا کی جائے اور جائز و ناجائز کی فکر پیدا کی جائے۔
۔(خطباتِ رمضان، صفحہ ۲۰۸)۔
یہ ملفوظات حضرت ڈاکٹر فیصل صاحب نے انتخاب فرمائے ہیں ۔

