اُمت میں اختلاف و تفریق کے اسباب
مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔
۔’’مسلمانوں کے طبقات اہلِ دین و اصلاح اور دینی خدمات انجام دینے والوں کے مابین جو تفرقہ آج پایا جاتا ہے وہ عموماً انہیں حقائق کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔۔۔۔
اب میں ان اسباب و عوامل کو پیش کرتا ہوں جو میرے غوروفکر کی حد تک مسلمانوں میں باہمی آویزش اور شقاق و جدال کا سبب بنے ہوئے ہیں اور افسوس اس کا ہے کہ اس کو خدمت دین سمجھ کر اختیار کیا جاتا ہے۔۔۔۔
غلو: میرے نزدیک اس جنگ و جدل کا ایک بہت بڑا سبب فروعی اور اجتہادی مسائل میں تخرب و تعصب اور اپنی اختیار کردہ راہِ عمل کے خلاف کو عملاً باطل اور گناہ قرار دینا اور اس پر عمل کرنے والوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا ہے جو اہلِ باطل اور گمراہوں کے ساتھ کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ اس پر تمام امت کا اتفاق بھی ہے اور عقلاً اس کے سوا کوئی صورت بھی دین پر عمل کرنے کی نہیں ہے کہ جو لوگ خود درجہ اجتہاد کا نہیں رکھتے وہ اجتہادی مسائل میں کسی امام مجتہد کی اتباع کریں اور جن لوگوں نے اپنے نفس کو آزادی اور ہوا پرستی سے روکنے کے لیے دینی مصلحت سمجھ کر کسی ایک امام مجتہد کا اتباع اختیار کر لیا ہے وہ قدرتی طور پر ایک جماعت بن جاتی ہے۔۔۔۔ اسی طرح دوسرے مجتہد کا اتباع کرنے والے ایک دوسری جماعت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔۔ اگر جماعت بندی مثبت انداز میں صرف اجتہادی مسائل کی حد تک اپنی تعلیمی اور عملی آسانیوں کے لیے ہو تو نہ اس میں کوئی مضائقہ ہے نہ کوئی تفرقہ اور نہ ملت کے لیے اس میں مضرت۔۔۔۔
مضرت رساں اور تباہ کن ایک منفی پہلو تو اس کا یہ ہے کہ اپنی رائے اور اختیار سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ جنگ و جدل… اور دوسرے ان فروعی مسائل کی بحثوں میں غلو… کہ سارا علم و تحقیق کا زور… اور بحث و تمحیص کی طاقت… اور عمر کے اوقاتِ عزیز… ان ہی بحثوں کی نذر ہو جائیں۔۔۔۔
اگرچہ ایمان و اسلام کے بنیادی اور قطعی اجماعی مسائل مجروح ہو رہے ہوں، کفر و الحاد دنیا میں پھیل رہا ہو۔۔۔۔ سب سے صرفِ نظر کر کے ہمارا علمی مشغلہ یہی فروعی بحثیں بنی رہیں، جن کے متعلق مذکورۃ الصدر تفصیل میں ابھی آپ معلوم کر چکے ہیں کہ ان میں ہزار تحقیقات کے بعد بھی بات اس سے آگے نہیں بڑھتی کہ یہ راجح ہے اور اس کے خلاف مرجوح اور اس راجح مرجوح کا بھی یقینی فیصلہ نہ دنیا میں ہو سکتا ہے نہ برزخ میں ان کا سوال ہوگا نہ محشر میں اس راجح مرجوح کا اعلان ہو گا۔۔۔۔
اسی طرح نہ ان مسائل میں اختلاف رکھنے والوں پر نکیر کرنا درست ہے نہ ان کو خطاکار مجرم ٹھہرانا صحیح ہے۔۔۔۔ اس وقت ہماری قوم کا برگزیدہ ترین طبقہ علماء فقہاء کا خصوصاً جو تعلیم و تصنیف میں مشغول ہیں، ان کی شبانہ روز مشغولیت کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر حضرات کی علمی تحقیقات اور سعی و عمل کی ساری توانائی ان ہی فروعی بحثوں میں محدود نظر آئے گی۔۔۔۔
