امر اول
جناب مودودی صاحب کا ارشاد ’’رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے‘‘ اس کے آثار و نتائج پرغور کرنے کیلئے سب سے پہلے یہ دیکھئے کہ تنقید کسے کہتے ہیں۔ تم جانتے ہوکہ یہ عربی کا لفظ ہے‘ جس کے معنی ہیں کسی چیز کا جانچنا‘ پرکھنا اورکھوٹا کھرا معلوم کرنا اور اردو محاورے میں یہ لفظ نکتہ چینی‘ خردہ گیری اور اظہار نقص کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے‘ یعنی جانچنے پرکھنے کے بعد جب کوئی چیز عیب دار ثابت ہوتی ہے تو اس کے کمزور پہلوئوں کے اظہار کا نام تنقید ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں پر تنقید کی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس کے کمزور پہلوئوں پر روشنی ڈالی‘ اس پرنکتہ چینی کی اور اس کے عیوب و نقائص بیان کئے۔
