امر اول

امر اول

جناب مودودی صاحب کا ارشاد ’’رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے‘‘ اس کے آثار و نتائج پرغور کرنے کیلئے سب سے پہلے یہ دیکھئے کہ تنقید کسے کہتے ہیں۔ تم جانتے ہوکہ یہ عربی کا لفظ ہے‘ جس کے معنی ہیں کسی چیز کا جانچنا‘ پرکھنا اورکھوٹا کھرا معلوم کرنا اور اردو محاورے میں یہ لفظ نکتہ چینی‘ خردہ گیری اور اظہار نقص کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے‘ یعنی جانچنے پرکھنے کے بعد جب کوئی چیز عیب دار ثابت ہوتی ہے تو اس کے کمزور پہلوئوں کے اظہار کا نام تنقید ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں پر تنقید کی تو اس کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس کے کمزور پہلوئوں پر روشنی ڈالی‘ اس پرنکتہ چینی کی اور اس کے عیوب و نقائص بیان کئے۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

مسئلے کی خاصیت جھگڑا نہیں

مسئلے کی خاصیت جھگڑا نہیں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اگر اختلاف حجت سے ہو تو وہ دین کا ایک پہلو ہو گا وہ اختلاف تو ہو گا مگر جھگڑا نہ ہو گا کیونکہ اس میں حجت موجود ہے۔ یہ جھگڑے اصل میں ہم اپنی جذبات سے کرتے ہیں اور مسئلوں کو...

read more

صحابہ رضی اللہ عنہم معیار حق

صحابہ رضی اللہ عنہم معیار حق اس تحریر کو فقیہ الامت عبداللہ بن مسعودؓ کے ارشاد پر ختم کرتا ہوں تاکہ ان کے ارشاد سے مودودی صاحب کے فرامین کا معیار حق تمہیں معلوم ہوسکے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جس کو کسی کی اقتدا کرنی ہو تو ان حضرات کی...

read more

مودودی صاحب کا حق تنقید اور اس کے مہلک اثرات

مودودی صاحب کا حق تنقید اور اس کے مہلک اثرات افسوس ہے کہ جناب مودودی صاحب نے بھی اپنی اسلامی تحریک کی بنیاد اسی نظریہ پر اٹھائی ہے۔ ہم جب خارجیوں کے حالات پڑھتے تھے تو ہمیں ان کی جرأت پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے مقابلہ میں دین فہمی کا دعویٰ کررہے ہیں جس...

read more