اللہ والوں کی شان میں گستاخی و بے ادبی سخت برے اثرات رکھتی ہے
بسلسلہ ملفوظات حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ
ارشاد فرمایا کہ اہل اللہ کے ساتھ بے ادبی اور گستاخی کا کوئی معاملہ کرنا اپنا انجام خراب کرنے کی دعوت ہے۔ ایسے شخص پر سوء خاتمہ کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایسے حضرات سے اگر کسی مجتہد فیہ معاملے میں غلطی بھی ہوجائے تو جو شخص اس کو ازروئے شرع درست نہ سمجھتا ہو اس پر تو یہ لازم ہے کہ اس فعل پر نکیر کرے ، اس کے غلط ہونے کو دلیل سے بیان کرے مگر خود ان کی ذات پر گستاخانہ طعن اور بے ادبی کے کلمات سے بچنے کی بہت فکر رکھنا چاہیے۔(آداب ِ شیخ و مرید، صفحہ ۲۹۳)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے یہ ملفوظات شیخ و مرید کے باہمی ربط اور آداب سے متعلق ہیں ۔ خود بھی پڑھیں اور دوستوں سے بھی شئیر کریں ۔
مزید ملفوظات پڑھنے کے لئے ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
اپنے پاس محفوظ کرلیں ۔
اس طرح کے ملفوظات روزانہ اس واٹس ایپ چینل پر بھی بھیجے جاتے ہیں
https://whatsapp.com/channel/0029VaJtUph4yltKCrpkkV0r
چینل جوائن کریں

