اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے دیکھنے سے منع کیا ہے ان سے باز رہنا ضروری ہے
ملفوظاتِ حکیم الامت مجددالملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
ارشاد فرمایا کہ محرمات شرعیہ (یعنی جن چیزوں کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے ان) کی مثال بادشاہی چیزوں کی طرح ہے مثلاً بادشاہ نے یہ فرمایا کہ ان چیزوں کو ہاتھ مت لگاؤ تو بس جن چیزوں کے چھونے سے منع کیا ہے ان کو ہرگز نہ چھونا چاہئے۔ اگرچہ سب چیزیں بادشاہ کی ہیں مگر منع کرنے کی وجہ سے ان کو چھوٹا ہرگز درست نہ ہوگا اور بلا اجازت چھولے گا تو مجرم قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح اللہ تعالی مثل بادشاہ کے ہیں اور ہم لوگ مثل غلام کے ہیں۔ پس جب کہ اللہ تعالیٰ نے اجنبی عورتوں کو دیکھنے اور (بے ضرورت) گفتگو کرنے سے منع فرمایا ہے تو ان عورتوں کو برا سمجھنا ضروری نہیں ۔ وہ شاہی چیزوں کی طرح اچھی بھی ہوں تب بھی منع کرنے کی وجہ سے ہم کو چاہئے کہ ہرگز ان سے گفتگو نہ کریں اور نہ ان کو دیکھیں بلکہ بیعت کے وقت بھی ان کو ہاتھ نہ لگائیں صرف زبانی بیعت کرلیں۔
نوٹ:- یہ ملفوظات ڈاکٹر فیصل صاحب (خلیفہ عبدالمتین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ) نے انتخاب فرمائے ہیں۔ اور انکو حضرت مولانا محمد زبیر صاحب (فاضل جامعہ دارالعلوم الاسلام لاہور 2023) نے تحریر فرمایا ہے ۔
یہ ملفوظات آپ ہماری ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
براہ مہربانی یہ پوسٹ اپنے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر شئیر کریں ۔

