اختلاف اہل حق کا معتبر ہے
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس بات میں اختلاف دیکھو بے سوچے سمجھے یا ہوائے نفسانی سے جس کا چاہو اتباع کرلو۔ مثلاً قادیانی اور سنی کا اختلاف دیکھو تو کیف مااتفق ایک فریق کو اختیار کرلو یہ مطلب ہرگز نہیں کیونکہ گفتگو علماء حقانی کے اختلاف کے بارے میں ہے پہلے اس کی تحقیق کرلو کہ وہ دونوں علماء حقانی ہیں یا نہیں جب تحقیق ہوجائے کہ دونوں حقانی ہیں تو اب دونوں کی اتباع میں گنجائش ہے جس کی بھی موافقت کرلی جائے تعمیل حکم ہوجائے گی اور وہ موجب رضا خدا وندی ہوگی ( ج ۲۶ ص ۱۴۳)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقیہ مدینہ حضرت قاسم بن محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک مختلف فیہ مسئلہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ان دونوں آراء میں سے آپ جس پر عمل کرلیں کافی ہے کیونکہ دونوں طرف صحابہ کرام کی ایک جماعت کا اسوہ موجود ہے۔( وحدت امت)
