آہ وزاری کی تاثیر

آہ وزاری کی تاثیر

آج سے تقریباً چار سو سال پہلے کی بات ہے کہ حکیم علیم الدین انصاری چنیوٹ میں رہتے تھے۔ عربی‘ فارسی کی تعلیم کے علاوہ اونچے درجے طبیب تھے۔ اللہ کی قدرت کہ اپنے شہر کے لائق حکیم ہونے کے باوجود کوئی اکا دکا مریض ہی ان کے پاس آتاتھا۔ گھر میں فاقہ کی نوبت تھی۔ حکیم صاحب تو صبر کرلیتے لیکن ان کی بیوی ہر وقت جلی کٹی سناتی۔ ایک دن حکیم صاحب شام کو گھر آئے تو بیوی نے اتنے طعنے دئیے کہ حکیم صاحب رو دئیے اور کافی دیر رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے اور اسی حال میں عشاء کی نماز کے بعد لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد کسی نے دروازہ پر دستک دی۔ معلوم ہوا کہ ایک تجارتی قافلہ کے آدمی ہیں جن کے سردار ملک مظفر خان کو پیٹ میں سخت درد ہے۔ حکیم صاحب انکے ساتھ مریض کے پاس گئے اور علاج کیا جس سے مریض کو افاقہ ہوگیا۔ حکیم صاحب گھر جانے لگے تو مریض نے دس دینار دیدئیے اور کہا کہ کل بھی تشریف لے آئیے۔ گھر آکر حکیم صاحب نے بیوی کو دس دینار دئیے اور سارا واقعہ ذکر کیا۔ حکیم صاحب دوسرے دن ملک مظفر خان کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا قافلہ آگرہ جارہا ہے آپ بھی ہمارے ساتھ چلئے میں آگرہ پہنچ کر آپ کو جہانگیر بادشاہ کی ملازمت دلادوں گا۔ حکیم صاحب نے حامی بھری تو انہوں نے اسی وقت بیس دینار دیئے کہ اہلخانہ کو دیکر تیاری کرکے واپس آجائیں۔ چنانچہ حکیم صاحب قافلہ کے ہمراہ روانہ ہوئے دوران سفر کوئی بیمار ہوتا تو حکیم صاحب اس کا علاج کرتے اور وہ آپ کو انعام سے نوازتا۔ آگرہ پہنچ کر اتنی رقم ہوگئی کہ انہوں نے اپنا مطب قائم کرلیا۔ کچھ ہی عرصہ میں خوب شہرت ہوئی اسی زمانہ میں ملکہ نور جہاں کو عرق النساء کی تکلیف ہوئی تو ملک مظفر خان نے بادشاہ کو حکیم علیم الدین انصاری سے علاج مشورہ دیا۔ حکیم صاحب نے ملکہ کا علاج کیا تو حکیم صاحب کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ بادشاہ اور ملکہ نے خوب انعام و اکرام سے نوازا جن کی مجموعی قیمت بائیس لاکھ روپے تک پہنچی۔ حکیم صاحب نے اپنی منت کے مطابق یہ ساری رقم رفاہ عام کے کاموں میں یوں خرچ کی کہ چنیوٹ کے چاروں طرف اینٹوں کی فصیل بنوائی‘ چنیوٹ اور لاہور میں بہت سی مساجد‘ بارہ دریاں‘ بازار‘ دکانیں اور سرائیں بنوائیں۔ ان کے علاوہ بے شمار باغات‘ شفا خانے‘ مدرسے‘ کنویں‘ تالاب اور حمام بنوائے۔ وزیر آباد کو آباد کیا۔ لاہور کی مشہور مسجد وزیر خان ان کی سب سے شاندار یادگار ہے۔ حکیم صاحب کی یادگار عمارات میں سے اکثر اب برباد ہوچکی ہیں۔
جہانگیر کے بعد شاہجہاں نے بھی آپ کو شاہی تاج دیا اور ایک لاکھ روپیہ انعام کے علاوہ دیگر قیمتی تحائف دئیے اور فوج میں ایک بڑا عہدہ بھی دیا۔
۔۱۶۳۲ء میں دولت آباد کے حاکم فتح خان نے خراج دینا بند کردیا تو شاہجہاں نے حکیم صاحب کا فوجی عہدہ بڑھا کر دس ہزار سوار کی جماعت کے ساتھ روانہ کیا لیکن جنگ کی نوبت نہیں آئی اور دولت خان نے اطاعت قبول کرلی۔ بادشاہ نے حکیم صاحب کو واپس بلالیا اور انہیں ’’نواب وزیر خان‘‘ کا خطاب دیکر لاہور کا گورنر مقرر کردیا۔ اسی دور نظامت میں آپ نے لاہور کی متعدد مساجد کی تعمیر کرائی۔ سات سال کے بعد بادشاہ نے حکیم صاحب کو آگرہ کا گورنر مقرر کردیا لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد قولنج کی بیماری سے اگست ۱۶۴۱ء میں انتقال کر گئے۔ (بشکریہ چشم بیدار)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more