آج کل کے نیچری اور نیچری عقل
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اسی نیچریت نے لوگوں کو زیادہ بد اعتقاد بنادیا ہر بات کو عقل پر جانچتے ہیں بیچاری عقل بھی مخلوق ہی ہے یہ کہاں تک تیر لگائے گی اور کیا خالق کے احکام کا احاطہ کر سکتی ہے اس کا مبلغ پرواز ایک حد تک ہے اس سے آگے وہ معطل ہے احکام کے راز اسرار کو عقل سے کوئی کیا سمجھ سکتا ہے مثلاً جبروقدرہی کے مسئلہ کو دیکھ لیجئے کہ وہاں تک کسی کی عقل کی رسائی نہیں ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں خوض و بحث سے روک دیا ہے کسی ایسے ہی مسئلہ کے متعلق کسی نے ایک بزرگ سے دریافت کیا تھا کیا خوب فرمایا کہ ۔
اکنوں کرادماغ کہ پرسدزباغبان،
بلبل چہ گفت و گل چہ شنید و صباچہ کرد
بس اتنا سمجھ لینا کافی ہے کہ وہ حاکم ہونے کے ساتھ حکیم بھی ہیں جو کچھ کرتے ہیں اسی میں بندہ کے لئے مصلحت ہوتی ہے ۔(ملفوظات حکیم الامت جلد۳)
فرمایا کہ ایک غیرمقلد نے ریل کے سفر میں مجھ سے پوچھا کہ اجتہاد کیا ہوتا ہے میں نے کہا کہ تمہیں کیا سمجھائوں تمہیں اس کا ذوق ہی نہیں۔ پھرمیں نے کہا کہ تم حقیقت اجتہاد کی تو کیا سمجھو گے میں تم سے ایک مسئلہ پوچھتا ہوں اس کا جواب دو اس سے کچھ پتہ اس کا لگ جائے گا۔ دو شخص سفر میں ہیں جو سب اوصاف میں یکساں ہیں‘ شرافت میں‘ وجاہت میں‘ ثقاہت میں اور جتنی صفتیں بھی امامت کے لیے قابل ترجیح ہوتی ہیں وہ سب دونوں میں بالکل برابر موجود ہیں اور کسی حیثیت سے ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں۔ دونوں سو کر اُٹھے تو ان میں سے ایک کو غسل جنابت کی حاجت ہوگئی اور سفر میں ایسے مقام پر تھے جہاں پانی نہ تھا إ
جب نماز کا وقت آیا تو دونوں نے تیمم کیا‘ ایک نے غسل کا ایک نے وضو کا اس صورت میں بتائو کہ امامت کے لیے ان دونوں میں سے کون سا زیادہ مستحق ہوگا ان غیرمقلد صاحب نے فوراً جواب دیا کہ جس نے وضو کا تیمم کیا ہے وہ امام بننے کا زیادہ مستحق ہوگا کیونکہ اس کو حدث اصغر تھا اور دوسرے کو حدث اکبر اور پاکی دونوں کو یکساں حاصل ہے مگر ناپاکی ایک کی بڑھی ہوئی تھی یعنی جس کو حدث اکبر تھا تو حدث اصغر والے کی پاکی زائد اور قوی ہوئی۔ میں نے کہا مگر فقہاء کی رائے اس کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ جس نے غسل کا تیمم کیا ہے اس کو امام بننا چاہیے اور فقہاء نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہاں اصل وضو ہے اور تیمم اس کا نائب اسی طرح غسل اصل ہے اور تیمم اس کا نائب تب ایک مقدمہ تو یہ ہوا۔ دوسرا یہ کہ غسل افضل ہے وضو سے اور تیسرا یہ کہ افضل کا نائب افضل ہوتا ہے تو غسل کا تیمم بھی افضل ہوگا وضو کے تیمم سے لہٰذا جس نے غسل کا تیمم کیا ہے وہ بہ نسبت اس کے جس نے وضو کا تیمم کیا ہے اقوی فی الطہارت ہوگا یہ ادنیٰ نمونہ ہے اجتہاد کا یہ سن کر غیرمقلد صاحب کو حیرت ہوگئی کہا واقعی حکم تو یہی ہونا چاہیے میری رائے غلط تھی میرا ذہن تو اس حقیقت تک پہنچا ہی نہیں۔ میں کہتا ہوں یہ تو لوگوں کی رسائی ذہن کی حالت ہے اور اس پر دعویٰ ہے اجتہاد کا۔
کہتے ہیں کہ جب قرآن و حدیث موجود ہیں پھر کسی تقریر کی ضرورت ہی کیا ہے۔ قرآن و حدیث سے خود ہی احکام معلوم کرسکتے ہیں مگر یہ نہیں دیکھتے کہ فہم کی بھی ضرورت ہے پھر فرمایا کہ ہم لوگوں میں یہ صفات توموجود ہی نہیں۔ تقویٰ‘ طہارت‘ خشیت صدق اخلاص ان سے فہم میں نورانیت پیدا ہوتی تھی اور فہم کی ضرورت ظاہر ہے جس سے یہ حقائق منکشف ہوتے تھے اور ان دقائق تک ذہن پہنچ جاتا تھا۔
ایک واقعہ یاد آیا آپ حیرت کریں گے کہ علماء متقدمین میں کس درجہ تدین اور انصاف تھا۔ دو عالموں کا غیرمدبوغ چمڑے کی پاکی ناپاکی کے متعلق اختلاف تھا باہم مناظرہ ہوا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کو ساکت کردیا مگر اسی جلسہ میں ایک غالب صاحب نے دوسرے صاحب کا جن کو ساکت کردیا تھا قول اختیار کرلیا۔ گو دلائل سے ان کو ساکت کردیا تھا لیکن دوران مناظرہ میں ان کا قول ان کے دل کو لگ گیا۔ لہٰذا اپنے قول سے رجوع کرلیا اس زمانہ میں یہ حالت تھی تقویٰ طہارت کی اب تو تہجد و تسبیح کو سمجھتے ہیں بزرگی حالانکہ بزرگی یہ ہے:۔
اگرچہ شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
کیا ٹھکانا ہے حق پسندی کا۔ باوجود غالب آجانے کے اپنی ہار مان لی اور اپنی شرمندگی کا بھی کچھ خیال نہ کیا۔ پھر حضرت اقدس مدظلہم العالی نے خاندان عزیزیہ کے کئی بزرگوں کے تقویٰ کے حالات کچھ تفصیل سے بیان فرمائے جوغالباً پیشتر ہی ملفوظات میں قلم بند ہوچکے ہوں گے کیونکہ ان حالات و واقعات کو حضرت اقدس اکثر بیان فرماتے رہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اب یہ باتیں کہاں اب محض نقل ہی نقل رہ گئی ہے۔
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
(نقل سے کیا ہوتا ہے نقل تو بندر بھی کرلیتا ہے)
آنچہ مردم میکند بوزینہ ہم
مگر کار بوزینہ نیست نجاری
کمالات یہ ہیں اور ہمارا تقویٰ طہارت تو بندر کی سی نقل ہے یہ وہ حضرات تھے جنہیں دیکھ کر کافر مسلمان ہوتے تھے اور ہم وہ ہیں کہ ہمیں دیکھ کر بعضے مسلمانوں کو بھی شبہ ہوجائے کہ کیا مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اب تو بزرگی بس وظیفوں کا نام ہے۔
اخلاق اور معاملات سب نہایت گندے حمیت دین کو دنیوی مقصد پر ترجیح دینے کی ایک حکایت یاد آئی۔ شاہ محمد اسحاق صاحب کی تنخواہ بادشاہ کی طرف سے مقرر تھی جب انگریزوں کا دور دورہ ہوا تو بجائے عربی مہینوں کے انگریزی مہینوں سے تنخواہ ملنا شروع ہوئی۔ جب شاہ صاحب کی تنخواہ آئی تو رسید پر دستخط کرنے اور انگریزی تاریخ لکھنے کے لیے کہا گیا۔
شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں انگریزی تاریخ نہیں لکھوں گا‘ لانے والے نے عرض کیا کہ اب انگریزی تاریخ ہی لکھنے کا حکم ہے انگریزی تاریخ ہی لکھ دیجئے ورنہ تنخواہ بند ہوجائے گی۔ آپ نے فرمایا کہ میں کافروں کی عادت پر عمل نہیں کروں گا چاہے تنخواہ بند ہوجائے۔ خدا رازق ہے انگریز رازق نہیں۔ آج بہت سے مسلمان ایسے ہیں جنہیں عربی مہینوں کے نام بھی نہیں معلوم اور جنہیں رمضان کے آنے کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ عبدالرحمن خان صاحب مطبع نظامی والے مجھ سے خود کہتے تھے کہ میرے ایک دوست کے بیٹے تعلیم حاصل کرکے جب ولایت سے لوٹے تو ان کے باپ نے مجھے لکھا کہ میرا لڑکا ولایت سے آرہا ہے کان پور کے اسٹیشن پر اس سے مل لینا شاید ان کو کسی چیز کی ضرورت ہو۔ رمضان کا مہینہ تھا میں ان صاحبزادے سے ملنے گیا تو انہوں نے اُتر کر ہوٹل میں کھانا کھایا‘ میں نے کہا کہ گو آپ سفر میں ہیں روزہ نہ رکھنا بھی جائز ہے لیکن آپ تو فرسٹ سیکنڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں جہاں ہر طرح کا آرام ہے یہ رمضان کا مہینہ ہے روزہ رکھنا افضل تھا۔صاحبزادے صاحب نے رمضان کے مہینے کا نام سن کر حیرت سے پوچھا کہ رمضان کیا چیز ہے‘میں نے کہا کہ مہینہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کون سا مہینہ پھر جنوری‘ فروری‘ مارچ‘ اپریل سب مہینوں کے نام گن کر فرمایا کہ اس میں تو رمضان کا کوئی مہینہ نہیں آیا۔ افسوس! مسلمان کے بچے اوریہ خبر نہیں کہ رمضان کا بھی کوئی مہینہ ہوتا ہے۔(ملفوظات حکیم الامت جلد۹)
